Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
111 - 273
جاکر بات چیت ہوئی، اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے انکی تکلیف کے خیال سے فرمایا کہ اپنے اسلام کو ابھی ظاہر نہ کرنا چپکے سے اپنی قوم میں چلے جاؤ، جب ہمار ا غلبہ ہوجائے اس وقت چلے آنا۔ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس کلمہ توحید کو ان بے ایمانوں کے بیچ میں چلا کرپڑھوں گا، چنانچہ اسی وقت مسجد حرام میں تشریف لے گئے اور بلند آواز سے
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ ِالٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہ
 پڑھا۔ پھر کیا تھا چاروں طرف سے لوگ اٹھے اور اس قدر مارا کہ زخمی کردیا، مرنے کے قریب ہوگئے۔

     حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس وقت مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے ،ان کے اوپر بچانے کے لئے لیٹ گئے اور لوگوں سے کہا کیا ظلم کرتے ہو یہ شخص قبیلہ غفار کا ہے اور یہ قبیلہ ملک شام کے راستہ میں پڑتا ہے ، تمہاری تجارت وغیرہ سب ملک شام کے ساتھ ہے اگر یہ مرگیا تو شام کا آنا جانا بند ہوجائیگا۔اس پر ان لوگوں کو بھی خیال ہواکہ ملک شام سے ساری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، وہاں کا راستہ بند ہوجانا مصیبت ہے اس لئے ان کو چھوڑدیا دوسرے دن پھر اسی طرح انھوں نے جاکر با آواز بلند کلمہ پڑھا اور لوگ اس کلمہ کوسننے کی تاب نہ لاسکتے تھے۔ اس لئے ان پر ٹوٹ پڑے ، دوسرے دن بھی حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح انکو سمجھا کر ہٹایاکہ تجارت کا راستہ بند ہوجائے گا۔
(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب قصۃ اسلام أبی ذرالغفاری رضی اللہ عنہ، الحدیث:۳۵۲۲۔۳۸۶۱،ج۲،ص۴۸۰)
Flag Counter