والہٖ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اورکسی سے پوچھنا مصلحت کے خلاف سمجھا، شام تک اسی حال میں رہے۔ شام کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دیکھا کہ ایک پردیسی مسافر ہے، مسافروں، غریبوں ، پردیسیوں کی خبر گیری اور ان کی ضرورت کا پور ا کرنا ان حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت و طبیعت تھی، اس لئے ان کو اپنے گھرلے آئے میزبانی فرمائی۔ لیکن ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ کون ہو اور کیوں آئے، مسافر نے بھی کچھ ظاہر نہ کیا، صبح کو پھر مسجد میں آگئے تاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے متعلق کسی سے کچھ دریافت کریں،لیکن کوئی ایسا شخص نظرنہ آیا جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے متعلق کچھ بتاتا۔دوسری شام کو بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہو اکہ پردیسی مسافر ہے بظاہر جس کیلئے آیا ہے وہ پوری نہیں ہوئی اس لئے پھر اپنے گھر لے گئے اور رات کو کھلایا سلایا مگر پوچھنے کی اس رات کو بھی نوبت نہیں آئی۔
تیسری رات کو پھر یہی صورت ہوئی۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا کہ تم کس کام کیلئے آئے ہو کیا غرض ہے؟ تو حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قسم اور عہدوپیمان کے بعد ان کو غرض بتائی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : وہ بے شک اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہیں اور صبح کو جب میں جاؤں تو تم میرے ساتھ چلنا ،میں وہاں تک پہنچا دوں گا، لیکن مخالفت کا زور ہے، اس لئے راستہ میں اگر مجھ سے کوئی ایسا شخص ملا جس سے میرے ساتھ چلنے کی وجہ سے تم پر کوئی اندیشہ ہو تو میں استنجاء کے ليے رک جاؤں گا یا اپنا جوتا درست کرنے لگوں گا، تم سیدھے چلے چلنا میرے ساتھ ٹھہرنا نہیں جس کی وجہ سے تمہارا میرا ساتھ ہونا معلوم نہ ہو۔ چنانچہ صبح کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پیچھے پیچھے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچے وہاں