Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
109 - 273
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں ارقم کے گھر پہنچیں۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے لپٹ گئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بھی لپٹ کر روئے۔ اَور مسلمان بھی رونے لگے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخواست کی یہ میری والدہ ہیں آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے لئے ہدایت کی دعا فرمادیں اور ان کو اسلام کی تبلیغ بھی فرمادیں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نیان کو اسلام کی ترغیب دی وہ بھی اس وقت مسلمان ہوگئیں۔
(البدایہ والنہایہ،ج۳،ص۳۰)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جذبہ اسلام: حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی ہیں ، جن کا شمار صحابہ کر ام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے جلیل القدر زاہدوں اور عظیم علماء میں ہے، حضرت علی کر م اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے علم کے حامل ہیں جن سے لوگ عاجز ہیں مگرانھوں نے اسے محفوظ رکھا ہے۔جب ان کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی نبوت کی پہلے پہل خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی کو حالات کی تحقیق کے لئے مکہ بھیجا کہ جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور آسمان کی خبریں آتی ہیں اسکے حالات معلوم کریں اور اس کے کلام کوغور سے سنیں۔ 

    وہ مکہ مکرمہ آئے اور حالات معلوم کرنے کے بعد اپنے بھائی سے جا کر کہا کہ میں نے ان کو اچھی عادتوں اور عمدہ خیال کا حکم کرتے دیکھا اور ایک ایسا کلام سنا جو نہ شعر ہے اورنہ کاہنوں کی خبریں۔حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس مجمل بات سے تشفی نہ ہوئی، تو خود سامان سفر کیا اور مکہ پہنچے اور سیدھے مسجد حرام میں گئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter