کی بیتا بانہ درخواست پوری کرنے کیلئے ام جمیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا حال دریافت کیا۔ و ہ بھی عام دستور کے مطابق اس وقت اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھیں۔ فرمانے لگیں میں کیا جانوں کون محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم) اور کون ابوبکرصدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تیرے بیٹے کی حالت سن کر رنج ہو ا اگر تو کہے تو میں چل کر اسکی حالت دیکھوں ام خیر نے قبول کر لیا ان کے ساتھ گئیں اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالت دیکھ کر تحمل نہ کر سکیں بے تحاشا رونا شروع کر دیا کہ بد کرداروں نے کیا حال کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے کئے کی سزا دے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا کیا حال ہے؟ ام جمیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ وہ سُن رہی ہیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان سے خوف نہ کرو ۔ ام جمیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خیریت سنائی اور عرض کیا کہ بالکل صحیح سالم ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ اس وقت کہاں ہیں انہوں نے عرض کیا کہ ار قم کے گھر تشریف رکھتے ہیں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھ کو خد اعزوجل کی قسم ہے کہ اس وقت تک کوئی چیز نہ کھاؤں گانہ پیؤں گا جب تک کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی زیارت نہ کرلوں۔ ان کی والدہ کو تو بیقراری تھی کہ وہ کچھ کھا لیں اور انہوں نے قسم کھا لی کہ جب تک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی زیارت نہ کرلوں کچھ نہ کھاؤں گا۔ اس لئے والدہ نے اس کا انتظار کیا کہ لوگوں کی آمدورفت بند ہوجائے۔ مبادا کوئی دیکھ لے اور کچھ اذیت پہنچائے۔ جب رات کا بہت سا حصہ گزر گیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لیکر