Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
107 - 273
ہوگئے، بنو تیم یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبیلے کے لوگوں کو خبر ہوئی تو وہاں سے اٹھا کر لائے۔

     سب کو یقین ہو چلا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وحشیانہ حملہ سے زندہ نہ بچ سکیں گے بنو تیم مسجد میں آئے اور اعلان کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اگر حادثہ میں وفات ہوگئی تو ہم لوگ ان کے بدلہ میں عتبہ بن ربیعہ کو قتل کریں گے عتبہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مارنے میں بہت زیادہ بدبختی کا اظہار کیا تھا۔ شام تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بے ہوشی رہی باوجود آوازیں دینے کے بولنے یا بات کرنے کی نوبت نہ آتی تھی۔ شام کو آوازیں دینے پر وہ بولے تو سب سے پہلے الفاظ یہ تھے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا کیا حال ہے؟ لوگوں کی طرف سے اس پر بہت ملامت ہوئی کہ ان ہی کے ساتھ کی بدولت یہ مصیبت آئی اوردن بھر موت کے منہ میں رہنے پر بات کی تو وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہی کا جذبہ اور ان ہی کے ليے۔

     لوگ پاس سے اٹھ کر چلے گئے ،بددلی بھی تھی، اور یہ بھی کہ آخر کچھ جان ہے کہ بولنے کی نوبت آئی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ام خیر سے کہہ گئے کہ ان کے کھانے پینے کیلئے کسی چیز کا انتظام کردیں۔ وہ کچھ تیار کرکے لائیں اور کھانے پر اصرار کیا مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہی ایک صد ا تھی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا کیا حال ہے؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر کیا گزری؟ انکی والدہ نے کہاکہ مجھے تو خبر نہیں کیا حال ہے،  آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا:ام جمیل (حضرت عمر کی بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہما)کے پاس جاکر دریافت کر لو کہ کیا حال ہے؟ وہ بیچاری بیٹے کی اس مظلومانہ حالت