| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
فرمارہے تھے اتنے میں میرے پاس سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا گزر ہوا میرے پاس نہ تو دشمن سے بچاؤکے واسطے کوئی ہتھیار تھا نہ سردی سے بچاؤ کے لئے کوئی کپڑا ،صرف ایک چھوٹی سی چادر تھی جو اوڑھنے میں گھٹنوں تک آتی تھی اور وہ بھی میری نہیں اہلیہ کی تھی، اس کو اوڑھے گھٹنوں کے بل زمین سے چمٹا ہو ا بیٹھا تھا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے دریافت فرمایا کون ہے ؟میں نے عرض کیا حذیفہ، مگرمجھ سے سردی کے مارے اٹھا بھی نہ گیا اور شرم کے مارے زمین سے چمٹ گیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اٹھ کھڑا ہو،اور دشمنوں کے جتھے میں جاکر ان کی خبر لا،کیا ہورہا ہے ۔میں اس وقت گھبر اہٹ اور خوف اور سردی کی وجہ سے سب سے زیادہ خستہ حال تھا مگر تعمیل ارشاد میں اٹھ کر فوراً چل دیا جب میں جانے لگا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے دعا دی
اَللّٰھُمَّ احْفِظْہُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ وَعَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَمِنْ فَوْقِہِ وَمِنْ تَحْتِہِ
اللہ تو اس کی حفاظت فرما سامنے سے اور پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے اور نیچے سے۔ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا تھاکہ گویا مجھ سے خوف سردی بالکل جاتی رہی اور ہر ہر قدم پر معلوم ہو رہا تھا کہ گویا گرمی میں چل رہا ہوں۔
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے چلتے وقت یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کوئی حرکت نہ کرنا چپ چاپ دیکھ کر چلے آؤ کہ کیا ہو رہا ہے۔میں وہاں پہنچا تو دیکھا آگ جل رہی ہے اور لوگ اس میں سینک رہے ہیں ایک شخص آگ پر ہاتھ سینکتا ہے اور کوکھ پر پھیرتا ہے اور ہر طرف سے واپس چل دو، واپس چل دو کی صدائیں آرہی ہیں۔ ہر شخص اپنے قبیلہ والوں کو آواز دیکر یہ کہتا ہے کہ واپس چلو اور ہوا کی تیزی کی وجہ سے چاروں طرف