سے پتھران کے خیموں پر برس رہے تھے خیموں کی رسیاں ٹوٹتی جاتی تھیں اور گھوڑے وغیرہ جانور ہلاک ہورہے تھے ابوسفیان جو گویااس وقت ساری جماعتوں کا سردار بن رہا تھا آگ پر سینک رہا تھامیرے دل میں آیا کہ موقع اچھا ہے اس کاکام تمام کر ڈالوں ترکش سے تیر نکال کر کمان میں رکھ بھی دیامگر پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ارشاد یاد آیا کہ کوئی حرکت نہ کرنا دیکھ کر چلے آنا اس لئے میں نے تیر ترکش میں رکھااسکو شبہ ہو گیا کہنے لگا تم میں کوئی جاسوس ہے، ہر شخص نے اپنے برابر والے کاہاتھ پکڑا میں نے جلدی سے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ کرپوچھا تو کون؟ اس نے کہا تو مجھے نہیں جانتا فلاں ہوں۔ میں وہاں سے واپس آیا جب آدھے راستے پر تھا توتقریباً بیس سوار مجھے عمامہ باندھے ہوئے ملے انہوں نے کہا کہ اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے کہہ دینا کہ اللہ عزوجل نے دشمنوں کا انتظام کردیا بے فکر رہیں۔
میں واپس پہنچا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ایک چھوٹی سے چادر اوڑھے نماز پڑھ رہے تھے یہ ہمیشہ کی عادت شریفہ تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کی بات پیش آتی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نماز کی طرف توجہ فرماتے نماز سے فراغت پر میں نے وہاں کاجو منظر دیکھا عرض کیا۔ جاسوس کا قصہ سن کردندان مبارک چمکنے لگے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے اپنے پاؤں مبارک کے قریب لٹا دیا اور اپنی چادر کا ذرا سا حصہ مجھ پر ڈالدیا میں نے اپنے سینے کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے تلوؤں سے چمٹا لیا۔