حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت اور فدائیت : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق میں ہماری ایک طرف تو مکہ کے کافروں اور انکے ساتھ دوسرے کافروں کے بہت سے گروہ جو ہم پر چڑھائی کرنے آئے تھے اور حملہ کے لئے تیار تھے، او ر دوسری طرف خود مدینہ منورہ میں بنو قریظہ کے یہود ہماری دشمنی پر تلے ہوئے تھے جن سے ہر وقت اندیشہ تھا کہ کہیں مدینہ کو خالی دیکھ کروہ ہمارے اہل و عیال کو بالکل ختم نہ کردیں ہم لوگ مدینہ منورہ سے باہر لڑائی کے سلسلے میں پڑے ہوئے تھے منافقوں کی جماعت گھر کے تنہا اور خالی ہونے کا بہانہ کرکے اجازت لیکر اپنے گھر وں کو واپس جارہی تھی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہر اجازت مانگنے والے کو اجازت مرحمت فرمادیتے تھے۔
اور اس دوران میں ایک رات آندھی اس قد ر شدت سے آئی کہ نہ اس سے پہلے کبھی اتنی آئی نہ اس کے بعد ۔اندھیرا اس قدر زیادہ کہ آدمی کوپاس والا آدمی تو کیا اپنا ہاتھ بھی نظر نہیں آتاتھا اور ہوا اتنی سخت کہ اس کا شور بجلی کیطرح گرج رہا تھا۔ منافقین اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ ہم تین سو کا مجمع اسی جگہ تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ایک ایک کا حال دریافت فرمارہے تھے، اور اس اندھیرے میں ہر طرف تحقیقات