کے سبھی لوگ خالد کی لاش کی طرف متوجہ ہوئے اورادھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے دوڑ پڑے۔ اب جب خالد کے لوگ قاتل کی تلاش کررہے ہیں تو قاتل کا پتا نہیں۔ ابھی اسے دفنا یا بھی نہ گیا تھا کہ اس کے گرد جمع ہونے والوں کا بادل چھٹنے لگا اور صبح تک پورا نخلہ خالی ہوگیا۔
ادھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا منشا پورا کردینے پر خوشی و مسرت سے لبریز ہے۔ دوڑتے ہوئے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں آرہے ہیں۔ زمین سمٹ کیوں نہیں جاتی کہ فوراً اپنے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو ہلاکت دشمن کی بشارت سنادوں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں حاضر ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ان کی آمد محسوس کی تو آپ کی طرف مسکراتے ہوئے نظر اٹھائی اور ارشاد فرمایا: