Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
102 - 273
کے سبھی لوگ خالد کی لاش کی طرف متوجہ ہوئے اورادھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے دوڑ پڑے۔ اب جب خالد کے لوگ قاتل کی تلاش کررہے ہیں تو قاتل کا پتا نہیں۔ ابھی اسے دفنا یا بھی نہ گیا تھا کہ اس کے گرد جمع ہونے والوں کا بادل چھٹنے لگا اور صبح تک پورا نخلہ خالی ہوگیا۔

     ادھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا منشا پورا کردینے پر خوشی و مسرت سے لبریز ہے۔ دوڑتے ہوئے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں آرہے ہیں۔ زمین سمٹ کیوں نہیں جاتی کہ فوراً  اپنے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو ہلاکت دشمن کی بشارت سنادوں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں حاضر ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ان کی آمد محسوس کی تو آپ کی طرف مسکراتے ہوئے نظر اٹھائی اور ارشاد فرمایا:
''اَفْلَحَ الْوَجْہُ''
یہ چہرہ کامیاب ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا چہرہ مبارک کامیاب ہے۔ میں نے اس دشمن کوقتل کرڈالا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا :تم نے سچ کہا۔

اس وقت حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ اشعار سنانے لگے۔
اقول لہ والسیف یعجم رأسہ               انا ابن انیس فارساً غیر قعدد

وقلت لہ خذھا بضربۃ ماجد             حنیف علی دین النبی محمد

وکنت اذا ھم النبی لکا فر                      سبقت الیہ باللسان وبالید
         (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،غزوۃ عبداللہ بن انیس،ج۴،ص۵۲۱)
    ''میں اس وقت کہہ رہا تھا جب تلوار اس کا سرچاٹ رہی تھی کہ میں ابن انیس
Flag Counter