والہٖ وسلم سے اس کی اجازت چاہی۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ان کواس کی چھوٹ دی کہ الحرب خدعۃ جنگ دھوکہ ہے۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار حمائل کئے ہوئے یہ مہم سر کرنے کے لئے نکل پڑے اور عصر کے وقت نخلہ پہنچ گئے وہاں انھوں نے دشمنوں کی زبردست بھیڑدیکھی پھر اپنے نشانہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ خالد کو دیکھا کہ عورتوں کے جھنڈ میں ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت اپنا منصوبہ مکمل کرنا چاہتے تھے مگر عصر کی نماز فوت ہونے کا بھی انھیں اندیشہ تھا۔ ایسے وقت میں انھوں نے دشمن کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ہی اشارہ سے نماز پڑھی اور خالد کے پاس پہنچ گئے۔ خالد نے ان سے پوچھا تم کون ہو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا عرب ہی کا ایک آدمی ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ تم نے ان (حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم )سے لڑنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے تو میں بھی اسی کے لئے آیا ہوں۔خالد نے کہاہاں ہاں میر ابھی خیال ہے کہ اب بہت جلد ہم مدینہ پر چڑھا ئی کرکے فتح حاصل کریں گے۔
خالد اپنی عورتوں سے صرف نظر کرکے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باتیں کرنے لگا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ذہن میں نشانہ فٹ کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طرز تکلم بڑا ہی خوب تھا۔ خالد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مانوس اور مطمئن ہوگیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خالد سے باتیں کررہے ہیں اور موقع کی تاک میں ہیں۔ چنانچہ انھیں موقع ہاتھ آہی گیا۔تلوار نیام سے نکالی اور خالد کا سر قلم کردیا اسکا دھڑ زمین پر جاگرا اور ایک دھمک سی ہوئی۔ خالد کی عورتیں متوجہ ہوئیں تو کیا دیکھتی ہیں اس کا سرا سکے تن سے جدا پڑا ہے۔ اب کیا تھا وہ عورتیں چیخ پڑیں وہاں