خلیفۂ اعلیٰ حضرت، سیِّدی ومرشِدی قُطبِ مدینہ حضرتِ علامہ مولیٰنا ضیاء الدّین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی سے بھی خِلافت حاصِل تھی ۔ جَواہِرُالبِحار جلد اول (مترجم) کے پیش لفظ میں مرشِدی قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے تحریر کردہ حکایت کا خلاصہ ہے: عشقِ رسول میں ڈُوبی ہوئی سنّتوں بھری کتاب '' جَواہِرُالبِحار ''تحریر فرمانے کے کچھ ہی عرصے کے بعد خواب میں سرکارِ نامدار مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدارِ فیض آثار سے مُشَرَّف ہوئے ۔سرکارِابد قرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کتاب جَواہِرُالبِحارکو بَہُت پسند فرمایا اور ازراہِ لُطف و کرم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے سینۂ بے کینہ فیض گنجینہ سے لگا لیا،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ