Brailvi Books

سگِ مدینہ کہنا کیسا؟
42 - 45
نے بے قرار ہوکر عرض کی:آقا! اب جدائی کا صدمہ سہنے کی تاب نہیں رہی۔''یہ درد بھرا فِقرہ مقبولیت پاگیا اور عاشقِ صادِق امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نے اپنے آقا و مولیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نورانی سینے سے لگ کر رِحلَت (یعنی وفات )کی سعادت پائی ۔ ؎
آپ کے سینے سے لگ کر موت کی یا مصطَفٰے

آرزو کب آئے گی بَر بے کس و مجبور کی
    ایک شاگرد ِرشید کو حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النورانی کی زیارت نصیب ہوئی جن سے حضرتِ مرحوم نے اپنی وفات کاواقِعہ بیان کیا جو اسی طرح عوام وخواص میں مشہور ہوا۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کی رِحلَت شریف اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی وفاتِ حسرت آیات کے دس سال بعد یعنی ۱۳۵۰ ھ مطابِق 1931ء میں ہوئی۔             ( جواہرُالبِحار ص ۱۲)
Flag Counter