Brailvi Books

سگِ مدینہ کہنا کیسا؟
39 - 45
چُنانچِہ حضرتِ علامہ سیِّدُناامام یوسف بن اسمٰعیل نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نَقل کرتے ہیں، حضرت سیِّدنا شیخ محمد بُدَیرِی دِمْیَاطِی علیہ رحمۃ اللہ الباقی فرماتے ہیں: میرے دادا جان عليہ رحمۃ الرحمٰن کی وفات کے بعد کسی نے خواب میں انہیں رَ یت کے ٹِیلے پر کھڑا دیکھ کر عرض کی:
ما فَعَلَ اللہ بِکَ؟
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا : اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفِرت فرمادی اور رَیت کے جتنے ذَرّات میرے قدموں تلے ہیں اتنے افراد کی شَفاعت کی اجازت بھی مرحَمَت فرمائی ہے۔ خواب دیکھنے والے نے پوچھا : کس نیکی کے سبب یہ مقام پایا؟فرمایا:'' میں جب بھی کسی مَرے ہوئے کُتّے کو دیکھتا تو کہتا: کاش ! یہ مرا ہوا کتّا میں ہی ہو تا۔اَلحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرا یہ قول مقبول ہو گیا۔
( جامعِ کراماتِ اولیا ء ج ۱ ص۳۴۴ملخصاً،مرکز اہلسنت برکات رضا ، الھند )
خدا سَگانِ نبی سے یہ مجھ کو سُنوا دے

ہم اپنے کتّوں میں تجھ کو شُمار کرتے ہیں  (ذوقِ نعت)
Flag Counter