کی عظمت و شرافت پہ لاکھوں سلام مگر خود قراٰنِ مقدس میں سگِ اَصحابِ کہْف کا ذِکرِ خیر موجود ہے۔ چُنانچِہ پارہ 15سُورَۃُ الْکَہْف آیت 18 میں ارشاد ہوتا ہے :
وَکَلْبُہُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَیۡہِ بِالْوَصِیۡدِ ؕ
ترجَمۂ کنز الایمان: اور ان کا کتّا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر ۔
اولیاء کی صُحبتِ با بَرَکت اور سگ
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مذکورہ آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا کہ بُزُرگوں کی صحبت کا کتّے پر اتنا اثر ہوا کہ اس کا ذِکر عزّت سے قراٰن میں آیااور اس کے نام کے وظیفے