Brailvi Books

سگِ مدینہ کہنا کیسا؟
24 - 45
یہ وَسوَسہ باقی رہے کہ کم از کم سگ کے ساتھ تو انسان کو تَشْبِیہ نہ ہی دی جائے اور اِ س ناپاک جانور کی نسبت شہرِ مقدّس مدینۃُ الْمنوَّرہ
زادَھَااللہ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً
کی طرف کرتے ہوئے خود کو سگِ مدینہ کہنا تو بَہُت بڑی جِسارت ہے!جواباً عرض ہے کہ بطورِ عاجِزی اپنے آپ کوسگ یعنی  کُتّا کہنے میں کوئی مُضايقہ نہیں ،ایسا کہنا بُزُرگوں سے ثابِت ہے ۔ مدینۂ منوَّرہ
زادَھَااللہ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً
کی عظمت و شرافت پہ لاکھوں سلام مگر خود قراٰنِ مقدس میں سگِ اَصحابِ کہْف کا ذِکرِ خیر موجود ہے۔ چُنانچِہ پارہ 15سُورَۃُ الْکَہْف آیت 18 میں ارشاد ہوتا ہے :
 وَکَلْبُہُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَیۡہِ بِالْوَصِیۡدِ ؕ
ترجَمۂ کنز الایمان: اور ان کا  کتّا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر ۔
اولیاء کی صُحبتِ با بَرَکت اور سگ
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مذکورہ آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا کہ بُزُرگوں کی صحبت کا کتّے پر اتنا اثر ہوا کہ اس کا ذِکر عزّت سے قراٰن میں آیااور اس کے نام کے وظیفے
Flag Counter