دوسرا باپ نہ بنائے{۸} ان کے حضور بات نہ کرے{۹} ہنسنا تو بڑی چیز ہے ان کے سامنے آنکھ، کان، دل، ہمہ تن ( یعنی مکمّل طور پر) انہیں کی طرف مصروف رکھے{۱۰} جو وہ پوچھیں نہایت ہی نرم آواز سے بکمالِ ادب بتا کر جلد خاموش ہوجائے{۱۱}ان کے کپڑوں ، ان کے بیٹھنے کی جگہ، اِن کی اولاد، ان کے مکان، ان کے مَحَلّے، اِن کے شہر کی تعظیم کرے {۱۲} جو وہ حکم دیں ’’ کیوں !‘‘ نہ کہے ( اور بجالانے میں ) دیر نہ کرے (بلکہ)سب کاموں پر اسے تَقدِیم(یعنی اَوَّلیَّت)دے{۱۳}اِن کی غَیبت (’’غَے ۔ بَتْ‘‘ یعنی غیر موجودَگی) میں بھی اِن کے بیٹھنے کی جگہ نہ بیٹھے{۱۴} اِن کی موت کے بعد بھی ان کی زَوجہ سے نِکاح نہ کرے{۱۵} روزانہ اگر وہ زِندہ ہیں ، اِن کی سلامتی و عافیت کی دُعا بکثرت کرتا رہے اور اگراِنتِقال ہوگیا تو روزانہ اِن کے نام پر فاتِحہ و دُرُود کا ثواب پہنچائے{۱۶} ان کے دوست کا دوست، اِن کے دشمن کا دشمن رہے۔ غَرَض اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد اِن کے عِلاقے (یعنی تعلُّق) کو تمام جہان کے عِلاقے (یعنی تعلُّق) پر دل سے ترجیح دے اور اِسی پر کار بند رہے وغیرہ وغیرہ۔ جب یہ ایسا ہوگا تو ہر وَقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ و سیِّدِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَو حضراتِ مَشائخِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی مدد زندگی میں ، نَزع میں ، قَبر میں ، حَشرمیں ، مِیزان پر، صِراط پر ، حوض پر ہر جگہ اِس کے ساتھ رہے گی۔ اِس کے مرشِد اگر خود کچھ نہیں تو ان کے مُرشد تو کچھ ہیں یا مُرشدکے مُرشد یہاں تک کہ صاحِبِ سلسلہ(قادِریہ) حُضُور پُرنور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ