’’یا غوثِ اَعظم نگاہِ کرم‘‘ کے سولہ
حُروف کی نسبت سے مُرشِدکے 16حقوق
میرے آقا اعلٰی حضرت، اِمامِ اَھلسنّت ، وَلیِ نِعمت، عَظِیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبَت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیِ سُنَّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیعت پیرِ طریقت، باعثِ خَیرو بَرَکت، حضرتِ علامہ مولٰینا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :مرشد کے حقوق مرید پر شُمار سے (بھی) اَفزوں ( یعنی بڑھ کر) ہیں ، خُلاصہ یہ ہے کہ ( مرید) {۱} اِن (یعنی مرشد) کے ہاتھ میں ’’مردہ بدستِ زندہ‘‘ (یعنی زندہ کے ہاتھوں میں مردہ کی طرح) ہو کر رہے{۲} اِن کی رِضا کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ر ِضا ،اِن کی ناخوشی کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناخوشی جانے{۳} انہیں اپنے حق میں تمام اولیاءے زمانہ سے بہتر سمجھے{۴} اگر کوئی نعمت بظاہر دوسرے سے ملے تو بھی اسے (اپنے) مرشدہی کی عطا اور انہیں کی نَظَرِ توجّہ کا صدقہ جانے {۵}مال،اولاد، جان، سب ان پر تصدُّق کرنے (یعنی لُٹانے) کو تیّار رہے {۶} ان کی جو بات اپنی نظر میں خِلافِ شَرع بلکہمَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکبیرہ( گناہ) معلوم ہو اس پر بھی نہ اعتراض کرے، نہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میر ی سمجھ کی غلطی ہے{۷} دوسرے کو اگر آسمان پر اُڑتا دیکھے جب بھی (اپنے) مرشد کے سوا دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو سخت آگ جانے، ایک باپ سے