گیا کہ یہ سارے افراد تمہارے حوالے کردئیے گئے ہیں ۔ فرماتے ہیں : میں نے داروغۂ جہنَّم سے اِستِفسار کیا(یعنی پوچھا): کیا جہنَّم میں میرا کوئی مرید بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:’’نہیں۔‘‘ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مزید فرمایا: مجھے اپنے پروَردگار عَزَّ وَجَلَّکی عزّت وجلال کی قسم! میرا دستِ حمایت میرے مرید پر اس طرح ہے جس طرح آسمان زمین پر سایہ کُناں ہے ۔ اگر میرا مرید اچّھا نہ بھی ہوتو کیا ہوا، الْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں تو اچّھا ہوں ، مجھے اپنے پالنے والے کی عزّت وجلال کی قسم! میں اُس وقت تک اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے نہ ہٹوں گا جب تک اپنے ایک ایک مرید کو داخلِ جنَّت نہ کروالوں ۔
(بہجۃُ الاسرار ص۱۹۳)
سرکارِ بغداد حضورِ غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اورمیرے دوستوں کو جنت میں داخِل کرے گاتو جو کوئی اپنے آپ کو میرا مرید کہے میں اسے قَبول کر کے اپنے مُریدوں میں شامل کر لیتا ہوں اور اُس کی طرف اپنی توجُّہ رکھتاہوں ۔ میں نے مُنکَر نکِیرسے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ قَبر میں میرے مریدوں کو نہیں ڈرائیں گے ۔ (مُلَخَّص ازبہجۃُ الاسرار ص۱۹۳)
سنا لا تَخَفْ تیرا فرمان عالی!
غلاموں کی ڈھارس بندھی غوث اعظم
(قبالۂ بخشش )