Brailvi Books

سانپ نما جن
23 - 28
(شُعَبُ الْاِیمان ج۲ ص۸۹ حدیث۱۲۴۱)لہٰذا جب ایک جگہ سے فیض مل رہا ہے تو اسے لازِم پکڑنا چاہیے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ فی زمانہ جب کوئی کسی کی بیعت توڑتا ہے تو دو چیزیں  عام سی ہیں  بلکہ ایک تیسری چیز بھی۔ پہلی دوچیزیں  تو یہ ہیں  کہ بیعت توڑنے والا اپنے سابقہ پیر کو حقیر سمجھتے ہوئے بیعت توڑتا ہے اور مسلمان اور خصوصا پیرِ کامل کو حقیر سمجھنا حرام اور سخت مہلک یعنی ہلاکت میں  ڈالنے والا ہے ۔ دوسری بات کہ عموماً بیعت توڑنے والے بالقصد (یعنی جان بوجھ کر)پیر کو ایذا پہنچاتے ہیں  اور یہ دوسرا حرام ہے کہ مسلمان کو ایذا دینا حرام ہے۔ تیسری چیز یہ ہے کہ عموماً بیعت توڑنے والے سابقہ پیر کی غیبت اور اُس کے بارے میں  بدگمانی کا شکار ہوتے ہیں  اور یوں  گناہوں  کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔بہرحال عافیت و نجات اسی میں  ہے کہ جب ایک در کو مضبوطی سے تھام لے تو اسے تھامے رکھے اور بلاوجہ آوارہ گردی اور پریشان نظری کا شکار نہ ہو۔  
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قادِریوں  کیلئے بِشارت کے بغدادی پھول
	بَہجَۃُ الاسرارمیں  ہے :پیروں  کے پیر،پیر دَست گیر ، روشن ضمیر ،قُطبِ رَبّا نی ،  محبوبِ سبحانی ، پیرِلاثانی ، قندِیل نُورانی، شہباز لامکانی ، الشَّیخ ابو محمد سیِّد عبدُالقادِر جیلانیقُدِّسَ سِرُّہُ الرَّ َّبَّانِیکا فرمانِ بِشارت نشان ہے : مجھے ایک بَہُت بڑا رجسٹر دیا گیا جس میں  میرے مُصاحِبوں  اور میرے قِیامت تک ہونے والے مریدوں  کے نام دَرج تھے اورکہا