Brailvi Books

سانپ نما جن
22 - 28
ہے۔ اب کسی بھی جامِعِ شرائط پیر سے بیعت کر سکتا ہے اور اِس پیر کامل کو بتانے کی حاجت نہیں  کہ میں  فُلاں  کی بیعت توڑکر آپ کا مرید ہوا ہوں۔
کامل پیر کی بیعت توڑنے کے نقصانات
 	بلا وجہ شرعی پیر کامل، جامعِ شرائط کی بیعت توڑنا ازروئے طریقت سخت محرومی اورازروئے شریعت بھی سخت ممنوع ہے۔اس بارے میں  طریقت کی کتابوں  میں  اولیاءِ کرام کے بیسیوں  اقوال دیکھے جا سکتے ہیں۔شریعت میں ممنوع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شرعاً اِحسان کا بدلہ کم از کم شکریہ ادا کرنا ہے ۔پیرِ کامل کا مرید ہونے سے آدمی کو اولیاء ِکرام کے سلسلے کے ساتھ نسبت حاصل ہوجاتی ہے نیز فیض کا ایک سلسلہ جاری ہوتا ہے اور راہِ طریقت کی بہت سی مشکلات حل ہوتی ہیں  اور بسااوقات تو زندگی میں  ایک مَدَنی انقلاب برپا ہوجاتا ہے ، ان سب چیزوں  کے مقابلے میں  شکریہ ادا کرنے کے بجائے بیعت ہی توڑدینا  یقینا سخت ناشکری ہے اور ناشکری شرعاً ممنوع ہے چنانچہ حدیث میں  فرمایاگیا:مَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ جس نے لوگوں  کا شکر ادا نہیں  کیا اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر بھی ادا نہیں  کیا۔(تِرمِذی ج۳ ص۳۸۴ حدیث ۱۹۶۲)نیز جب ایک مرتبہ آدمی کسی پیر کامل کی بیعت ہوجاتا ہے تو فیض کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اگرچہ مرید ِ ناقص کو وہ نظر نہ آئے۔ تو جب فیض کا سلسلہ شروع ہوچکا تو اسے برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ حدیثِ مبارَک میں  ہے کہمَنْ رُّزِقَ فِی شَیْء ٍ فَلْیَلْزَمْہُ  یعنی جس کو کسی شے سے رزق ملے وہ اُسے لازِم پکڑ لے ۔