گستاخ ہو وہ مُرتَد ہے اور جو کسی صَحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی توہین کرتا ہو وہ گمراہ و بدمذہب ہے ایسوں کا مُرید بننا ناجائز و گناہ ہے نیز جو پیر کھلم کُھلا گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو یا گناہِ صغیرہ پر اصرار کرنے والا ہو وہ فاسِقِ مُعلِن کہلاتا ہے۔ مَثَلاً علی الاعلان نَمازیں قضا کرتا ہو، نشہ کرتا ہو، گندی گالیاں بکتا ہو، بے پردہ خواتین کے ہُجوم میں بیٹھتا ہو، عورَتوں سے ہاتھ چُمواتا یا پاؤں دَبواتا ہو، عَلانیہ فلمیں ڈِرامے دیکھتا ہو، داڑھی منڈاتا یا ایک مٹھی سے گھٹاتا ہو وہ فاسِقِ مُعلِن ہے، ایسے پیر کی بَیعت جائز نہیں۔دیکھ بھال کر مُرید بننا چاہئے۔چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعتجلد اوّ ل صَفْحَہ 278پرصدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :پیری کے لیے چار شرطیں ہیں ، قبل از بیعت اُن کا لحاظ فرض ہے:{1} سنّی صحیحُ العقیدہ ہو {2} اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے {3} فاسِقِ مُعلِن نہ ہو {4} اُس کا سلسلہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتک مُتَّصِل (یعنی ملا ہوا) ہو۔ (بہارِ شریعت ، فتاوٰی رضویہ ج۲۱ ص۶۰۳) اگر کسی پیر کے اندر ان چاروں میں سے ایک بھی شَرط کم ہو تو اس کا مُرید بننا جائز نہیں۔اگر لا عِلمی میں کسی نے ایسے پیر سے بیعت کرلی ہو جس میں کوئی شرط کم ہو تو اُس کی بیعت توڑدینا ضَروری ہے، اِس کیلئے ’’پیرِ ناقِص‘‘ کو خبر دینے کی حاجت نہیں ، اتنا کہدینا ہی کافی ہے کہ میں فُلاں سے بیعت توڑتا ہوں ، بلکہ پیر سے اعتِقاد اُٹھ جانے کی صورت میں خود ہی بیعت ٹوٹ جاتی