Brailvi Books

رِیاکاری
98 - 167
ہم عصر یامصر(یعنی ہم زمانہ یاشہر)کے لوگ ہوتے ہیں اور اس پر اس لئے خوش نہ ہو کہ میری تعریف ہورہی ہے بلکہ اس لئے کہ ان لوگوں کی(تعریف) ان کو نفعِ دینی پہنچائے گی سمع ِقبول سے سنیں گے جو ان کو نصیحت کی جائے گی تویہ حقیقۃً حبِّ مدح (تعریف کی محبت) نہیں بلکہ حبِّ نصحِ مسلمین (مسلمانوں کی خیرخواہی کی محبت)ہے اور وہ محض ایمان ہے۔ طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:'' ریاست کی چاہت اور محبت کے تین اسباب ہیں، دوسرا یہ ہے کہ اقتدار اس لئے چاہتاہے تاکہ اس کی وجہ سے نفاذ حق اعزاز دین اور لوگوں کی اصلاح کر سکے، اگر یہ ممنوع اُمور مثلاً ریاء تلبیس، اور واجب اور سنت کے چھوڑنے سے خالی ہو تو نہ صرف جائزہے بلکہ مستحب (موجب اجرو ثواب ہے) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی حکایت بیان فرمائی (کہ وہ بارگاہ رب العزت میں عرض گزار ہوتے ہیں) اے پروردگار! ہمیں پرہیزگار اور ڈرنے والے لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنا دے۔
 (فتاوٰ ی رضویہ ،ج ۲۱ ص۵۹۷)
لوگوں کی مذمّت کا خوف کس طرح دُور کریں؟
    لوگوں کی مذمت کا خوف اس طرح دُور کیا جاسکتا ہے کہ اپنا ذہن بنا لیجئے کہ لوگو ں کے مذمت کرنے سے میری موت جلد نہیں آجائے گی ،نہ میرے رزق میں کمی بیشی ہوگی ،اگر میرا ربّ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے راضی ہے تو لوگوں کی ناراضی میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی ۔یہ لوگ تو خود عا جز ہیں کہ اپنے لیے نفع ونقصان اورموت وحیات کے مالک نہیں تو میں کیوں ان کی مذمت کے خوف سے نیک عمل کروں یا چھوڑوں ،مجھے صرف اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے غضب سے ڈرنا چاہيے۔

    یقینا ہر وہ شخص جو اپنے دل میں بچوں، دیوانوں اور دیگر لوگوں کے اپنے عمل
Flag Counter