Brailvi Books

رِیاکاری
97 - 167
کروں بلکہ میں صرف اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے عبادت کروں گا ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
آج بنتا ہوں معزز جو کھلے حشر میں عیب 

ہائے رسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب
جُھوٹی تعریف کو پسند کرنا حرام ہے
    اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت فتاوٰی رضویہ جلد 21صفحہ 597پرلکھتے ہیں : اگر اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھے کہ لوگ اُن فضائل سے اس کی ثناء(یعنی تعریف) کریں جو اس میں نہیں جب تو صریح حرام قطعی ہے۔
قَالَ اللہُ
 (اللہ تعالیٰ نے فرمایا)
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفْرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحْمَدُوۡا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوۡا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کئے اُن کی تعریف ہو ایسوں کو ہر گز عذاب سے دُور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ٤،اٰل عمران :۱۸۸)
تعریف کو پسند کرنا کب مُسْتَحَب ہے؟
    اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت مزیدلکھتے ہیں :ہاں اگر تعریف واقعی ہو تو اگرچہ تاویل معروف ومشہور کے ساتھ، جیسے
شَمْسُ الْاَئِمَّہ وفَخْرُ الْعُلَمَاءِ وَتَاجُ الْعَارِفِیْن وَاَمْثَالُ ذٰلک
 (یعنی اماموں کے آفتاب، اہل علم کے لئے فخر، اور عارفوں کے تاج، اور اسی قسم کے دوسرے توصیفی کلمات ( جو مدح کی تعریف وتوصیف ظاہر کریں) کہ مقصود اپنے
Flag Counter