Brailvi Books

رِیاکاری
96 - 167
رہزن نے لُوٹ لی کمائی 

فریاد ہے خضرِ ہاشمی سے 

(حدائقِ بخشش)
    (۴)رسولِ اکرم ،نورِ مجسّم ،شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم فرماتے ہیں: ستائش پسندی آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہے۔
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث۷۴۲۸،ج۳،ص۱۸۵)
    (۵)حضرت ابوعبداللہ انطاکی علیہ رحمۃ اللہ الباقی فرماتے تھے کہ جو شخص اپنے اعمال ظاہرہ میں اخلاص کا طالب ہو اور دل سے مخلوق پر نظر رکھتاہو ،وہ طلبِ مُحال میں مبتلا ہے کیوں کہ اخلاص قلب کا پانی ہے اور ریا اس کو مُردہ کرنے والی ہے ۔
 (تنبیہ المغترین،ص ۲۴)
یُوں فکرِ مدینہ کیجئے
    کوشش کر کے اس طرح غوروخوض (یعنی فکر ِمدینہ) کیجئے :''لوگوں کا میری تعریف میں چندجملے بول دینا یا مجھے ستائشی (یعنی تعریف بھری)نگاہوں سے دیکھنا ، یا شہرت مل جانانفس کے لئے یقینا باعث ِ لذّت ہے مگران کی تعریف مجھے میدانِ حشر میں بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں کامیابی وکامرانی نہیں دلوا سکتی کیونکہ یہ لوگ تو خود خوفِ عتاب سے لرزہ بَراَنْدَام ہوں گے ۔ان کی تعریف سے میرا رزق بڑھے گا نہ عمر میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی آخرت میں کوئی مقام ومرتبہ نصیب ہوسکتا ہے تو ایسے لوگوں کی تعریف کی خواہش کا کیا فائدہ ؟میں کیوں ان لوگوں کو دکھانے کے لئے نیک عمل
Flag Counter