| رِیاکاری |
مترادف ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک بات سے خوش ہوتے ہیں تو ناراض ہونے والوں کی بھی ایک تعداد ہوتی ہے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دکھاوے کے لئے عمل کرنے والے کی مثال
دکھاوے اور سنانے کے لئے عمل کرنے والے کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو اپنی پوٹلی(یعنی جيب يا تھيلی) پتھروں سے بھر کر خریداری کے لئے بازار چلا گیا۔جب لوگوں نے اُسے دیکھا تو حیرت سے کہنے لگے :''اس کی جیب کتنی بھری ہوئی ہے!'' مگر جب وہ دکاندار کے سامنے اپنی پوٹلی کھولے گا تو ذلیل ورسوا ہو گا اور اس کی پٹائی ہو گی، اسے لوگوں کی واہ واہ کے سوا کوئی نفع حاصل نہ ہو گا ۔ اسی طرح دکھاوے اور سنانے کے لئے عمل کرنے والے کو لوگوں کی طرف سے بولے جانے والے تعریفی کلمات کے علاوہ کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے قیامت کے دن کوئی ثواب ملے گا۔
(الزواجر،الکبیرۃالثانیۃ الشرک الاصغر۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱، ص۷۶ماخوذًا)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(تیسرا علاج)اسباب کا خاتمہ کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر بیماری کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے اگر سبب مٹادیا جائے تو بیماری بھی رخصت ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ریاکاری کے بھی بنیادی طور پر تین اسباب ہوتے ہیں اگر اِن تین چیزوں سے جان چھڑا لی جائے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ریاکاری سے بچنا بے حدآسان ہوجائے گا ۔وہ تین اسباب یہ ہیں ؛