ہے تو وہ اس سے بچتا ہے مثلاً ایک اسلامی بھائی شہد کو اس کی لذت اور مٹھاس کی وجہ سے بہت پسندکرتا ہے لیکن اگر اسے یہ بتادیا جائے کہ یہ شہد جسے تم پینے جارہے ہو،اِس میں زہر ملاہوا ہے تو وہ اس میں موجود مٹھاس کو نہیں زہرکو دیکھے گا اور اسے ہرگزہرگز نہیں پئے گا ۔اِسی طرح لوگوں پر اپنا نیک عمل ظاہر کرنے اور ان کی طرف سے واہ واہ ہونے میں یقینا نفس کو بڑی لذت ملتی ہے لیکن اگر ہم اِس لذت کے بجائے ریاکاری کے نقصانات ذہن میں رکھیں تو اس سے بچنا ہمارے لئے قدرے آسان ہوجائے گا ۔کیا ریاکاری کا یہی نقصان کم نہیں کہ نیک عمل میں مشقت اٹھانے کے باوجود ثواب سے محروم کردیا جائے ! اس مزدور کا کیا حال ہوگا جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہائے اور جب مزدوری ملنے کا وقت آئے تو اُس کی مزدوری یہ کہہ کر روک لی جائے کہ فُلاں فُلاں غلطی کی وجہ سے تمہیں مزدوری نہیں دی جاسکتی ۔ مگرآہ! ریاکار کو تو ثواب سے محرومی کے ساتھ ساتھ عذاب بھی برداشت کرنا ہوگا ۔ وہ شخص کتنا نادان ہے کہ جس شے سے وہ لاکھوں کماسکتا ہے وقتی خوشی کی خاطر اسے کوڑیوں کے مول بیچ دے ،بالکل اسی طرح وہ عبادت گزار کتنا ناسمجھ ہے جو عبادت کے ذریعے خالق کا قرب چاہنے کے بجائے مخلوق کو اپنابنانے کی کوشش کرے ،ایسے ریاکار نے گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کے بدلے لوگو ں سے محبت چاہی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مذمت کے بدلے لوگو ں کی تعریف کا طالب ہوا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کے بدلے لوگوں کی رضا کا طالب ہوا اورباقی رہنے والی جنتی نعمتوں کو فانی دُنیا کے بدلے بیچ ڈالا ۔ پھر سب لوگوں کو راضی رکھنا دودھ کی نہر کھودنے کے