Brailvi Books

رِیاکاری
91 - 167
تو بے حد دُشوار ضرور ہے لیکن اِس دُشواری کو آڑ بنا کر اپنی اِصلاح کی کوشش ترک کردینا بہت بڑی نادانی ہے۔ اگرچہ ہم اِن پاکیزہ ہستیوں جیسا نہیں بن سکتے مگر ان کے حالات وملفوظات کی روشنی میں اپنی نیتوں اور معاملات کی دنیا تو سنوارسکتے ہیں ، اپنے نفس کی خوشنودی کے سودوں سے تو بازرہ سکتے ہیں ، آخرت کے نفع ونقصان اور اپنے ربّ قدیرعَزَّوَجَلَّ کے غضب ورضاکا خیال تو رکھ سکتے ہیں ۔
مشکل سے نہ گھبرائيے
    بیماری جتنی پرانی ہوتی ہے اس کا علاج بھی اُتنا ہی مشکل ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہمیں اپنا ذہن بنا لینا چاہے کہ جس طرح ہم اپنے جسمانی امراض کے علاج کے لئے خلافِ طبیعت کڑوی دوائیاں پینے پر تیار ہوجاتے ہیں اسی طرح اِس باطنی بیماری یعنی ریاکاری کے علاج کے لئے بھی اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر طرح کی مشقت برداشت کریں گے ۔اِن مشقتوں کو برداشت کرنا شروع شروع میں دُشوار محسوس ہوگا بعد میں قدرے آسان لگے گا جس طرح سخت سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بے حد دشوار محسوس ہوتا ہے لیکن اگر ہم ہمت کرکے پانی اپنے جسم پر ڈالنا شروع کردیں تو وضو کرنا ہمارے لئے آسان ہوجاتا ہے ۔
؎غم سے خوگر ہُوا اِنساں تو مِٹ جاتا ہے غم 

مشکلیں اِتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter