Brailvi Books

رِیاکاری
90 - 167
کار آخر میں ریا سے توبہ کرے تو اس پر ریا کی عبادت کی قضا واجب نہیں بلکہ اس توبہ کی برکت سے گزشتہ نامقبول ریا کی عبادات بھی قبول ہو جائیں گی۔ مطلقاً ریا سے خالی ہونا بہت مشکل ہے کوئی شخص ریا کے اندیشہ سے عبادات نہ چھوڑے بلکہ ریا سے بچنے کی دعا کرے۔
 (مِرْاٰۃ المناجیح ،ج۷،ص۱۲۷)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مرضِ ریا کا علاج کیجئے
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہم اپنے دل میں اس مرضِ ریا کی علامات محسوس کریں تو بعدِ توبہ علاج میں دیر نہیں کرنی چاہے ۔ جب ہم اپنے باطن کو پاکیزہ کرنے کی کوشش کریں گے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا ظاہر بھی ستھرا ہوجائے گا ۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جو اپنے باطن کی اِصلاح کریگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ظاہر کی اِصلاح فرما دے گا۔''
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۵۲۷۳،ج۳،ص۱۳،ملخصًا)
مایوس نہ ہوں
     مایوسی کا شکار ہو کر یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اِخلاص پر تواولیاء کرام علیہ رحمۃ اللہ السلام ہی قادر ہوسکتے ہیں،ہم کہاں اِس قابل؟اور اس طر ح اخلاص کی کوشش ترک کردی جائے۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم جیسے گنہگاروں کے لئے کامل طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں کے نقش ِ قدم پرچلنا ناممکن نہیں
Flag Counter