میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہم اپنے دل میں اس مرضِ ریا کی علامات محسوس کریں تو بعدِ توبہ علاج میں دیر نہیں کرنی چاہے ۔ جب ہم اپنے باطن کو پاکیزہ کرنے کی کوشش کریں گے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا ظاہر بھی ستھرا ہوجائے گا ۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جو اپنے باطن کی اِصلاح کریگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ظاہر کی اِصلاح فرما دے گا۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۵۲۷۳،ج۳،ص۱۳،ملخصًا)
مایوسی کا شکار ہو کر یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اِخلاص پر تواولیاء کرام علیہ رحمۃ اللہ السلام ہی قادر ہوسکتے ہیں،ہم کہاں اِس قابل؟اور اس طر ح اخلاص کی کوشش ترک کردی جائے۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم جیسے گنہگاروں کے لئے کامل طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں کے نقش ِ قدم پرچلنا ناممکن نہیں