میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہے کہ بڑی دیانت داری سے خود پر غور کریں کہ کہیں ہم تنہائی میں عبادت کے معاملے میں سستی وغفلت اور لوگوں کے سامنے چستی کا مظاہرہ تو نہیں کرتے ؟ کہیں ہم نیکی کرنے کے بعد اس کا لوگوں پر بلاضرورت اظہار تو نہیں کردیتے ؟ پھر اگر کوئی اس پر ہماری تعریف کردے تو پھول کرعمل میں اضافہ تو نہیں کردیتے ؟ اور تعریف نہ ہونے کی صورت میں کہیں ہم غمگین تو نہیں ہوجاتے اوراس عمل میں کمی تو نہیں کردیتے؟ہمیں لوگوں کے سامنے نیکی کرنے میں بڑی لذت ملتی ہے مگر تنہائی میں مزا نہیں آتا ؟کہیں ہم لوگوں کے سامنے اپنی مذمت اُنہیں متأثر کرنے کے لئے تو نہیں کرتے ؟ وغیرھا۔