Brailvi Books

رِیاکاری
88 - 167
نے اپنے ہاتھوں خُود اپنا نقصان کر لیا کہ نیکی چھوڑ کر ثواب سے محروم ہوگیا ۔دوسری خرابی یہ ہے کہ اس کا عمل کو اس لئے چھوڑنا کہ لوگ اسے ریا کار کہیں گے ،یہ بھی ریا ہے کیونکہ اگر اسے لوگوں کی تعریف اور مذمت سے کوئی سر وکار نہ ہوتا تو وہ اس بات کی کیوں پرواہ کرتا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہيں یامخلص ؟
 (احیاء علوم الدین،کتاب ذم الجاہ والریاء،بیان ترک الطاعت۔۔۔۔۔۔الخ،ج۳،ص۳۹۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ریا کارکی علامتیں
    حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ ا للہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا : ریاکار کی تین علامتیں ہیں:
    (1) تنہائی میں ہو تو عمل میں سستی کرے اور لوگوں کے سامنے ہو تو جوش دکھائے،

    (2) اس کی تعریف کی جائے تو عمل میں اضافہ کر دے اور 

    (3)اگر مذمت کی جائے تو عمل میں کمی کر دے۔''
 (الزواجر،الکبیرۃالثانیۃ الشرک الاصغر۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱، ص۷۵)
    حضرت سیِّدُنا خوا جہ حسن بصری علیہ رحمۃ للہ القوی فرماتے تھے کہ جو شخص کسی مجمع میں اپنی مذمت کرتاہے وہ درحقیقت اپنی تعریف کرتاہے اور یہ بھی ریا کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔
 (تنبیہ المغترین ،ص۲۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter