Brailvi Books

رِیاکاری
87 - 167
ریا کے خوف سے نیک عمل چھوڑ دینے والے کی مثال
    حضرت سیِّدُناحجۃ الاسلام امام محمدغزالی علیہ رحمۃالوالی احیا ء ُالعلوم میں لکھتے ہیں :جو شخص ریا کے خوف سے عمل کو چھوڑ دیتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص کو اس کے آقا نے ایسی گندم دی جس میں گندم کے مشابہ دوسرے دانے ملے ہوئے تھے اور اس نے حکم دیا کہ اسے بالکل صاف کردو یہاں تک کہ اس میں گندم کے علاوہ ایک بھی دانہ نہ رہے اب وہ شخص اس خوف سے کہ شاید میں اسے بالکل صاف نہ کر سکوں ،اس عمل کو بالکل ہی چھوڑ دیتا ہے تو یہی حال اس شخص کا ہے جو اخلاص پیدا نہ ہونے کے خوف سے نیکی کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جب اخلاص ہی نہ ہوگا تو عمل کا کیا فائدہ ہوگا؟
 (احیاء علوم الدین،کتاب ذم الجاہ والریاء،بیان ترک الطاعت۔۔۔۔۔۔الخ،ج۳،ص۳۹۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
لوگ کیا کہیں گے؟
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اگرکسی نے اس خوف سے نیکی چھوڑ دی کہ لوگ مجھے ریا کا رکہیں گے اورگناہ گارہوں گے لہٰذا اُن کو گناہ سے بچانے کے لئے میں نیک عمل ہی نہیں کرتا، یہ بھی شیطانی مکر و فریب ہے اور اس میں سب سے پہلی خرابی یہ ہے کہ یہ شخص مسلمانوں کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہواحالانکہ اِسے اِس کا کوئی حق نہ تھا ، پھر اگریہ بات سچ ثابت ہوجاتی تو بھی اسے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ لیکن اس
Flag Counter