حضرت سیِّدُناحجۃ الاسلام امام محمدغزالی علیہ رحمۃالوالی احیا ء ُالعلوم میں لکھتے ہیں :جو شخص ریا کے خوف سے عمل کو چھوڑ دیتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص کو اس کے آقا نے ایسی گندم دی جس میں گندم کے مشابہ دوسرے دانے ملے ہوئے تھے اور اس نے حکم دیا کہ اسے بالکل صاف کردو یہاں تک کہ اس میں گندم کے علاوہ ایک بھی دانہ نہ رہے اب وہ شخص اس خوف سے کہ شاید میں اسے بالکل صاف نہ کر سکوں ،اس عمل کو بالکل ہی چھوڑ دیتا ہے تو یہی حال اس شخص کا ہے جو اخلاص پیدا نہ ہونے کے خوف سے نیکی کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جب اخلاص ہی نہ ہوگا تو عمل کا کیا فائدہ ہوگا؟