پھر اِس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ریاکاری کے ڈر سے نیکی چھوڑ کر ہم شیطان کی گرفت سے محفوظ ہوجائیں گے ۔یاد رکھئے! شیطان ہماراپھر بھی پیچھا نہیں چھوڑے گا ،بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارا یوں ذہن بنائے کہ لوگ کہتے ہیں کہ '' تم نے عمل اخلاص کی وجہ سے چھوڑا ہے او رتم شہرت کے طالب نہیں ہو۔'' اب جبکہ تمہارے اخلاص کا چرچا ہورہا ہے تم اِس جگہ کو چھوڑ دو ،اگر ہم وہ جگہ بھی چھوڑ دیں اور بالفرض کسی غار یا زمین کے نیچے کسی بِل میں چلے جائیں تو وہ ہمارے دل میں اس بات کی لذت ڈالے گا کہ لوگ تمہیں زاہد سمجھتے ہیں اور ان کو تمہارے خلوت نشیں ہونے کا علم ہے لہٰذا اس وجہ سے وہ تمہاری تعظیم کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ علٰی ھذا القیاس ۔یوں وہ قدم قدم پر ہمارے لئے مسائل کھڑے کرتا رہے گا ۔چنانچہ ہمیں ریاکاری کے ڈر سے نیک عمل کو نہیں چھوڑنا چاہيے اور شیطانی وسوسوں پر زیادہ توجہ بھی نہیں دینی چاہيے ۔