Brailvi Books

رِیاکاری
86 - 167
انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جب شیطان تمہیں متردّد دیکھتاہے (کہ کبھی نیکی کی اور کبھی چھوڑدی)تو تم میں طمع (یعنی لالچ)رکھتا ہے اور جب تمہیں ہمیشہ نیکی کرتا ہوا دیکھتا ہے تو تم سے نفرت کرتا ہے اور تمہیں چھوڑ دیتا ہے۔
 (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الجاہ والریاء،بیان دواء الریاء۔۔۔۔۔۔الخ، ج ۳، ص ۳۸۶ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کیا نیکیاں چھوڑ کر ہم شیطان سے بچ جائیں گے ؟
    پھر اِس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ریاکاری کے ڈر سے نیکی چھوڑ کر ہم شیطان کی گرفت سے محفوظ ہوجائیں گے ۔یاد رکھئے! شیطان ہماراپھر بھی پیچھا نہیں چھوڑے گا ،بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارا یوں ذہن بنائے کہ لوگ کہتے ہیں کہ '' تم نے عمل اخلاص کی وجہ سے چھوڑا ہے او رتم شہرت کے طالب نہیں ہو۔'' اب جبکہ تمہارے اخلاص کا چرچا ہورہا ہے تم اِس جگہ کو چھوڑ دو ،اگر ہم وہ جگہ بھی چھوڑ دیں اور بالفرض کسی غار یا زمین کے نیچے کسی بِل میں چلے جائیں تو وہ ہمارے دل میں اس بات کی لذت ڈالے گا کہ لوگ تمہیں زاہد سمجھتے ہیں اور ان کو تمہارے خلوت نشیں ہونے کا علم ہے لہٰذا اس وجہ سے وہ تمہاری تعظیم کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ علٰی ھذا القیاس ۔یوں وہ قدم قدم پر ہمارے لئے مسائل کھڑے کرتا رہے گا ۔چنانچہ ہمیں ریاکاری کے ڈر سے نیک عمل کو نہیں چھوڑنا چاہيے اور شیطانی وسوسوں پر زیادہ توجہ بھی نہیں دینی چاہيے ۔
Flag Counter