Brailvi Books

رِیاکاری
85 - 167
گویا ایک بھونکنے والے کتے کی طرح ہے کہ اگر ہم اِس کے قریب جاکر خاموش کروانے کی کوشش کریں تو یہ اور زیادہ بھونکتا ہے اور اگر ہم اُسے اس کے حال پر چھوڑکر اپنی راہ لیں تو یہ بالآخر بھونکنا چھوڑ دیتا ہے ۔اسی طرح شیطان بھی پہلے پہل ہمیں نیک عمل چھوڑنے کا مشورہ دیتا ہے ، اگرہم اس کے مشورے کونظر انداز کر کے نیکیوں میں مشغول ہو جائیں تواس کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم سے ایسی غلطی کروا دے جس کی وجہ سے ہمارا نیک عمل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول نہ ہوسکے ،اگر اس میں بھی ناکام رہے تو وہ ہمارے دل میں ریاکاری کے وسوسے ڈالتا ہے اورہمیں ریا کاری کرنے پر آمادہ کرتاہے۔اگر ہم اس پرپھر بھی تو جہ نہ دیں بلکہ فکرِ مدینہ کرتے ہوئے نیکیوں کی طرف ہی متو جہ رہيں تو وہ ہمارے دل میں وسوسے ڈالے گا اور کہے گا : '' تیرا عمل خالص نہیں ، تُو ریا کار ہے ، تیری کوشش بے کار ہے ،اس عمل کا کیا فائدہ جس میں اخلاص نہ ہو؟'' یوں وہ ہمارے ساتھ مسلسل چمٹارہے گا تا کہ کسی طرح وہ ہمیں اس عمل کے چھوڑنے پر آمادہ کرے تو اگر ہم نے وہ عمل چھوڑدیاتو شیطان کامیاب ہوگیا ۔لہٰذا اسے ہرگز خوش نہ کیجئے اور نیک کام پر استقامت پذیر رہیے تاکہ وہ ہم سے ناامید ومایوس ہوجائے۔یہ ہماری کامیابی ہوگی اور اس کی ناکامی !

    حضرتِ ابراہیم تیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''شیطان بندے کو گناہ کے ایک دروازے کی طرف بلاتا ہے اور وہ بندہ اس کی بات نہیں مانتا بلکہ اس کی جگہ کوئی نیکی کرتا ہے تو شیطان یہ صورت حال دیکھ کر   اسے چھوڑ دیتا ہے ۔