میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کہ کسی کے دل میں شیطان یہ وسوسہ ڈالے کہ جب ریاکاری کی اِس قدر آفتیں ہیں اور ریاکاری سے بچنا بھی بے حد دُشوار ہے توسِرے سے نیک عمل ہی نہ کیا جائے تاکہ کم از کم ہم ریاکاری کی سزا سے تو بچ جائیں۔ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ریاکاری کے خوف سے نیک عمل چھوڑنا دانشمندی کی بات نہیں کیونکہ اس طرح ہم اخلاص اور نیکی دونوں کے ثواب سے محروم ہوجائیں گے۔حضرت سیدنا فضیل بن عیا ض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں :''لوگوں کے لئے عمل ترک کر دینا ریاکاری ہے اور لوگوں کے لئے عمل کرنا شرک ِ(اصغر)ہے، جبکہ اخلاص یہ ہے کہ اللہ عزوجل تجھے ان دونوں چیزوں سے نجات عطا فرما دے۔''