Brailvi Books

رِیاکاری
83 - 167
ریاکاری کے خوف سے عبادت چھوڑنا کیسا؟
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کہ کسی کے دل میں شیطان یہ وسوسہ ڈالے کہ جب ریاکاری کی اِس قدر آفتیں ہیں اور ریاکاری سے بچنا بھی بے حد دُشوار ہے توسِرے سے نیک عمل ہی نہ کیا جائے تاکہ کم از کم ہم ریاکاری کی سزا سے تو بچ جائیں۔ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ریاکاری کے خوف سے نیک عمل چھوڑنا دانشمندی کی بات نہیں کیونکہ اس طرح ہم اخلاص اور نیکی دونوں کے ثواب سے محروم ہوجائیں گے۔حضرت سیدنا فضیل بن عیا ض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں :''لوگوں کے لئے عمل ترک کر دینا ریاکاری ہے اور لوگوں کے لئے عمل کرنا شرک ِ(اصغر)ہے، جبکہ اخلاص یہ ہے کہ اللہ عزوجل تجھے ان دونوں چیزوں سے نجات عطا فرما دے۔''
 (الزواجر،الکبیرۃالثانیۃ الشرک الاصغر۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱، ص۷۶)
    لہٰذا ہمیں چاہيے کہ نیک عمل چھوڑنے کے بجائے اپنی نیت درست کر لیں کیونکہ اگر ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو مکھی کو اڑایا جاتا ہے ناک نہیں کاٹی جاتی ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ریاکاری کا وسوسہ آنا گناہ نہیں ہے
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ریاکاری کا دل میں صرف خیال آنا اورطبیعت کا اس طرف مائل ہونا نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ شیطان تو ہرانسان پرمسلّط ہے یہ انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ شیطانی وسوسوں کو دل میں داخل ہی نہ ہونے دے
Flag Counter