Brailvi Books

رِیاکاری
82 - 167
،برے معاملات سے بچنا بہت ہی مشکل ہے ۔
 (مِراٰۃُ المناجیح،ج۶،ص۶۳۴)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح دیگر نیکیاں ریاکاری کی نذر ہوسکتی ہیں اسی طرح  گناہوں سے بچنے میں بھی ریاکاری ممکن ہے کیونکہ گناہ سے بچنا بھی نیکی ہے اور شیطان کبھی نہیں چاہے گا کہ مسلمان ثواب کمانے میں کامیاب ہوجائے ۔ لہٰذا اگر اس لئے گناہ ترک کرتاہے کہ لوگ اسے متقی،پرہیزگار،عبادت گزار اور خوف وخشیت کا پیکر سمجھیں تویہ صورت خالص ریاکاری کی ہے۔چنانچہ گناہوں کو چھوڑنے میں رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ پیشِ نظر ہونی چاہے،ضمناً اور بھی اچھی اچھی نیّتیں کی جاسکتی ہیں مثلاً(۱) کہیں میری دیکھا دیکھی لوگ بھی اس گناہ میں نہ لگ جائیں، یوں میراگناہ بڑاہو جائے گا(۲) اس گناہ کی وجہ سے میں لوگوں کی نظرسے گرجاؤں گااوروہ میری پیروی کرناچھوڑدیں گے اورمیری نیکی کی دعوت قبول نہ کریں گے، یوں میں لوگوں کی اصلاح کرنے کے ثواب سے محروم ہوجاؤں گا،وغیرھا
اِخلاص کی پہچان
    گناہ چھوڑنے میں اخلاص کی پہچان یہ ہے کہ بندہ جس طرح لوگوں کے سامنے گناہ سے بازرہتاہے اسی طرح تنہائی میں بھی گناہ سے بازرہے ۔بہرحال گناہ سے ہر حال میں بچا جائے اور دل میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter