آج کل بچہ یا بچی اگر حفظِ قرآن مکمل کرلے تو اسکے لئے شاندار تقریب کی جاتی ہے۔ جس میں اس کو گُل پوشی و گل پاشی اور تحائف و تعریفی کلمات سے خوب نوازا جاتا ہے۔امیرِ اَہلسنّت دامَتْ َبرَکاتُہُمُ الْعا لیہ اس قسم کی تقریبات کا انعقاد کرنے والوں کو ''فکر ِ مدینہ'' کی دعوت دیتے ہوئے فیضانِ سنت جلد اوّل کے صفحہ1448 پر لکھتے ہیں: گھر والے شاید سمجھتے ہوں گے ہم حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ مگر معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بچہ بلند حوصلہ تھا جبھی تو حافظ بنا۔ ہاں حفظ شروع کرواتے وقت حوصلہ افزائی کی واقعی ضروت ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ پڑھ لے۔ بہر حال حافظ مَدَنی منے ، منی کے حفظ کی تقریب میں حوصلہ افزائی ہو رہی ہے یا وہ خود''پھول کر کُپَّا'' ہوا جارہا ہے اس پر غور کرلیا جائے۔ کہیں ایساتو نہیں کہ ہماری یہ'' تقریب سعید'' اس بے چارے سادہ لوح بھولے بھالے حافظ مَدَنی منے کی ریاکاری کی تربیت گاہ بن رہی ہو!میں نے اس طرح کی تقاریب میں اخلاص کو بہت تلاشا، مجھے نہ مل سکا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات مَعَاذاللہ عَزَّوَجَلّ