جب کوئی آپ کی تعریف کرے تو اس طرح بھی غوروخوض (یعنی فکرِ مدینہ ) کیجئے :'' جس وجہ سے میری تعریف کی گئی ہے وہ مجھ میں پائی بھی جارہی ہے یا نہیں ؟ مثلاً لوگوں نے مجھے متقی وپرہیزگار کہا ،کیا میں واقعی تقوٰی کے شرعی معیار پر پُورا اترتا ہوں اور اگر لوگوں کی تعریف سچی بھی ہے تو اس میں میرا کیا کمال ہے یہ تو میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عطا ہے پھر اعمال کا اعتبار تو خاتمے پر ہے ،میں نہیں جانتا کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں ؟کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن مجھے انہی لوگوں کے سامنے بلا کر کہا جائے :''اے فاجر! اے دھوکے باز! اے ریاکار! کیا تجھے حیانہ آئی جب تُو نے اللہ عزوجل کی اطاعت کے بدلے دنیا کا ساز وسامان خریدا؟ تُو نے بندوں کے دلوں پر نظر رکھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نظرِرحمت پرقناعت نہ کی، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں صرف اُس کے بندوں سے محبت کی، لوگوں کے لئے ایسی چیزوں سے آراستہ ہوا جو