| رِیاکاری |
نکلتی ہے ۔ غرض یہ کہ ریا کا تعلق عامل کی نیت سے ہے کہ وہ دکھلاوے شہرت کی نیت سے نیکی کرے یہ ہے ریا۔
(مِرْاٰۃ المناجیح، ج۷،ص۱۲۹ملخصًا)
(۲)۔۔۔۔۔۔یا خوشی کا قابلِ تعریف ہونا اس وجہ سے ہے کہ بندہ یہ سو چ کرخوش ہو جاتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جب دنیا میں اس کے گناہوں کو چھپایا اور اس کی نیکیوں کو ظاہر فرمایا تو آخرت میں بھی اس کے ساتھ یہی سلوک فرمائے گا، چنانچہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ جس بندے کے گناہ کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتاہے آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔''
(کنزالعمال،کتاب التوبۃ، قسم الاقوال،باب فی فضلھاوالترغیب فیھا الحدیث:۱۰۲۹۶،ج۴،ص۹۷،بدون''ذنباً'')
(۳)۔۔۔۔۔۔یاپھربندہ یہ خیال کرے کہ میرے نیک اعمال پر مطلع ہونے والوں کو میری اِقتدا میں رغبت ملے گی اور اس طرح مجھے دُگنا ثواب ملے گا ایک ثواب تواس بات کا ہوگا کہ اس کا مقصود ابتداء میں عمل کو پوشیدہ رکھنا تھا اور دوسرا ثواب اس کے ظاہر ہونے اور لوگوں کی اقتداء کی وجہ سے ہوگا کیونکہ عبادت و طاعت میں جس کی پیروی کی جاتی ہے اسے ان پیروی کرنے والوں کاثواب بھی ملتا ہے اوران کے ثواب میں بھی کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس خیال سے خوشی حاصل ہونا بالکل درست ہے کیونکہ نفع کے آثار کا ظہور لذت بخشتا ہے اور خوشی کا سبب بنتا ہے۔ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں:یہ اس صورت میں