| رِیاکاری |
(۱)۔۔۔۔۔۔اپنا یوں ذہن بنائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے اچھے عمل کولوگوں پرظاہر کر کے مجھ پر کرم فرمایا ہے،کیونکہ وہی عبادت اور گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محض اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال کر اس کی عبادت کو ظاہر فرما دیا اور اس سے بڑااحسان کسی پر کیا ہو گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کے گناہوں کو چھپا دے اور عبادت کو ظاہرکردے لہٰذا بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس پر نظرِ رحمت کی وجہ سے خوش ہو لوگوں کی تعریف اور ان کے دلوں میں اس کے لئے جو مقام و مرتبہ ہے اس کی وجہ سے خوش نہ ہو (تو یہ ریا نہیں) جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ
تر جمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہے کہ خو شی کریں۔(پ۱۱، یونس:۵۸)
حضرتِ سیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نورِ مجسم صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یہ فرمائیے کہ آدمی اچھا کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں(یہ ریا ہے یا نہیں)؟ فرمایا: ''یہ مومن کے لیے جلد یعنی دنیا میں بشارت ہے۔''
(صحیح مسلم، کتاب البرو الصلۃ والادب،باب اذااثنی علی الصالح۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۲۶۴۲،ص۱۴۲۰)
( یعنی یہ ریا نہیں ہے بلکہ قبولیت کی علامت ہے کہ لوگوں کے منہ سے خود بخود اس کی تعریف