Brailvi Books

رِیاکاری
75 - 167
بچوں یا بڑوں کو خبر ہونے سے اس کے دل پر کوئی فرق نہ پڑتا۔
 (الزواجر عن اقتراف الکبائر،ج۱،ص۸۲)
    یاد رہے ریا کاری کی یہ تمام علامات بندے کے اپنے نفس کے لئے ہیں کسی دوسرے کے لئے نہیں کیونکہ ان کا تعلق دل کے حالات سے ہے اور دل کے حالات پر کوئی دوسرا مطلع نہیں ہوسکتا ۔لہذا اِن حالات کو کسی پر قیاس کر کے بدگمانی نہ کیجئے کہ بدگمانی حرام ہے اوراسی طرح کسی کے بارے میں تجسُّس کرنا،اس کی پردہ دری کرنااوراس میں یہ علامات تلاش کرناتاکہ اس کوبدنام کیاجائےیہ بھی حرام ہے۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب الحلال والحرام،الباب الثالث الحالۃالاولی، ج۲،ص۱۵۰/کتاب الامر بالمعروف۔۔۔۔۔۔الخ،ج۲،ص۳۹۹ ملخصاً)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اپنی تعریف پر خوش ہونا کیسا؟
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر کسی کے نیک عمل پر اس کی تعریف کی جائے تو اس کا خوش ہونا فطری بات ہے۔ لیکن یاد رکھئے کہ اپنی(سچی) تعریف پرخوش ہونے کی بھی صورتیں ہیں ،چنانچہ یہ خوشی کبھی محمود (یعنی پسندیدہ)ہوتی ہے اور کبھی مذموم(یعنی ناپسندیدہ)،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جب کوئی ہماری (سچی)تعریف کرے تو اسے نرمی سے منع کردیں ،پھر بھی کوئی ہماری تعریف کرنے سے باز نہ آئے تو پھولنے کے بجائے دل میں داخل ہونے والی خوشی کے بارے میں اچھی اچھی نیّتیں کر لینی
Flag Counter