میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اﷲعَزَّوَجَلَّ کے مخلص بندے ہمیشہ خفی ریا سے ڈرتے ہیں اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کے نیک اعمال کے سلسلہ میں انہیں دھوکا نہ دے سکیں دیگر لوگ جتنی کو شش اپنے گناہ چھپانے میں کرتے ہیں یہ ان سے زیادہ اپنی نیکیاں چھپانے کے حریص ہوتے ہیں اوراس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی نیکیوں کو خالص رکھنا چاہتے ہیں تا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن لوگوں کے سامنے انہیں ثواب عطا فرمائے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قیامت کے دن صرف وہی اعمال مقبول ہوں گے جو اخلاص کے ساتھ کئے گئے ہوں۔ اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ سخت محتاج اور بھوکے ہوں گے اوران کا مال و اولاد انہیں کچھ کام نہ آئے گا سوائے اس کے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قلبِ سلیم (یعنی گناہوں سے محفوظ دل )لے کر حاضر ہو گااور نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا یہاں تک کہ صدیقین کو بھی اپنی ہی فکر ہو گی ہر شخص نَفْسِی نَفْسِی پکار رہا ہو گا، جب صدیقین کا یہ حال ہوگا تودیگر لوگ کس حال میں ہوں گے؟ہر وہ شخص جو اپنے دل میں بچوں، دیوانوں اور دیگر لوگوں کے اپنے عمل پرآگاہ ہونے سے فرق محسوس کرتا ہو وہ ریا کے شائبے میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ یہ جان لیتا کہ نفع ونقصان دینے والااور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے اور دوسرے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تو اس کے نزدیک بچوں اور دیگر لوگوں کا آگاہ ہونا برابر ہوتا اور