(4)ریائے خفی کی ایک قسم ایسی ہے جوواعظین ،مدرسین اور علماء کے ساتھ خاص ہے ۔وہ یوں کہ ان میں سے اگرکوئی زبان کی مہارت،وسیع مطالعے اور بہترین حافظے کی بدولت اچھابیان کرتاہو ،شریعت وطریقت کی معرفت رکھتا ہو ،لوگوں کا اس کی طرف میلان ہو،پھر کوئی اور واعظ یاعالم ان لوگوں کی اصلاح کرے یا وہ اسے چھوڑ کر کسی اور عالم یا شیخ کے پاس جائیں تو وہ ملال محسوس کرے اور حسد میں مبتلاہوجائے ،تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ریائے خفی کا شکار ہوچکا ہے ۔ اسی طرح دورانِ بیان جب کوئی مالدار شخص یا کوئی صاحبِ منصب ان کی محفل میں حاضرہوتو اپنی گفتگو ادھوری چھوڑ کر ان کی خوشامد شروع کردینا یا اپنے کلام میں شائستگی اور نرمی پیدا کرلینا ۔ہاں !اگر ان کی اصلاح کی نیت سے بیان طویل کرتا ہے تاکہ وہ اپنے فسق وفجورسے توبہ کریں اوراصلاح کی طرف مائل ہو جائیں تو یہ نیت درست ہے مگراس صورت میں بھی ریاکاری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے ۔ لہذابیان کرنے والے کو چاہیے یہ کہ تمام خلقِ خداکوایک نظرسے دیکھے اورامیرکواس کی امیری کے سبب غریب سے اوربڑے کوچھوٹے سے ممتازنہ کرے تویوں وہ اِنْ شَآءَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ ریاکاری سے بچ جائے گا ۔