Brailvi Books

رِیاکاری
72 - 167
کہیں نقصان نہ ہوجائے
    حضرتِ سیِّدُناوہب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کے دوران ایک بزرگ نے اپنے ہم سفروں سے فرمایا:ہم نے سرکشی کے خوف سے اپنے مالوں اور اولاد کو چھوڑ دیا لیکن ہمیں اِس بات کا خوف ہے کہ مالدار لوگوں کو مال کے سبب جس قدر سرکشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے زیادہ کہیں ہمیں دین میں نقصان نہ ہو کیونکہ ہم میں سے کوئی ایک جب ملاقات کرتا ہے تو اپنے دینی مقام کی وجہ سے اپنی تعظیم کا خواہش مند ہوتا ہے اور اگر کوئی چیز خریدتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کے دینی منصب کی وجہ سے اسے کم قیمت پر ملے ۔جب یہ بات ان کے بادشاہ تک پہنچی تو وہ ایک لشکر کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوا چنانچہ پہاڑاور میدان لوگوں سے بھر گئے ۔اُس بزرگ نے کسی سے دریافت کیا :یہ سب کیا ہے ؟ کہاگیا :بادشاہ آپ سے ملنے آیا ہے ۔انہوں نے خادم سے کہا :میرے لئے کھانا لاؤ۔وہ ساگ زیتون اور کھجور کے خوشے لے آیا ۔اس بزرگ نے خوب منہ کھول کر بڑے بڑے لقمے ڈالنے شروع کردئيے۔بادشاہ نے پوچھا :تمہارے وہ سردار کہاں ہیں ؟لوگوں نے جواب دیا:یہی ہیں ۔بادشاہ نے پوچھا :آپ کا کیا حال ہے ؟ بزرگ نے جواب دیا :عام لوگوں کی طرح ہے ۔یہ سُن کر بادشاہ نے کہا :اس شخص کے پاس کوئی بھلائی نہیں ہے اور واپس چلاگیا۔اس کے جانے کے بعد بزرگ کہنے لگے :اﷲ تعالیٰ
Flag Counter