Brailvi Books

رِیاکاری
71 - 167
اس کی تعریف کریں اور اس کی ضرورتوں کو خوشی خوشی پورا کریں ٭خریدوفروخت میں اس کے ساتھ رعایت برتیں(یعنی سستے میں چیز بیچیں یا دام ہی نہ لیں)٭ کسی محفل میں جائے تواس کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔٭ اس کی آؤبھگت کریں وغیرھا

اگر کوئی ان معا ملات میں ذرّہ برابر کوتاہی کرے تواسے بہت ناگوار گزرے ۔گویا وہ اپنی پوشیدہ عبادت کا اظہار تو نہیں چاہتا لیکن اس کے بدلے لوگوں سے عزت واحترام کا طلب گار ہے ،بالفرض اس نے یہ عبادتیں نہ کی ہوتیں تو اس کا دل ان چیزوں کا مطالبہ بھی نہ کرتا ۔جب کوئی اسلامی بھائی اِس قسم کی ریاکاری میں مبتلاہوجائے تو اس کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ محض اِس بات پر قناعت نہیں کرتا کہ دلوں کا حال جاننے والے پرودگار عَزَّوَجَلَّ کواس کی نیکیوں کا علم ہے ۔ان تمام صورتوں میں نیکیوں کا ثواب ضائع ہوسکتا ہے اوراس سے صرف صِدِّیقین ہی محفو ظ رہتے ہیں۔''
کیا تمہاری حاجتیں پوری نہیں کی جاتی تھیں!
    حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں :''اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن قاریوں سے ارشاد فرمائے گا کیا تمہیں سودا سستا نہیں دیا جاتا تھا؟ کیا تمہیں سلام کرنے میں پہل نہیں کی جاتی تھی؟ کیاتمہاری حاجتیں پوری نہیں کی جاتی تھیں؟''ایک حدیث (قُدسی) میں ہے :''تمہارے لئے کوئی اَجر نہیں کیونکہ تم نے اپنا اَجر پورا پورا وصول کرلیا۔''
 (الزواجر عن اقتراف الکبائر ،ج۱،ص۸۲)
Flag Counter