خفی کی اس قسم کو پہچاننا آسان نہیں ،اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ جب لوگوں کو اس کی عبادت کا پتہ چلے تو اسے خوشی ہو۔چنانچہ کئی اسلامی بھائی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عمل میں مخلص ہوتے ہیں ، ریاکاری کو ناپسند کرتے ہیں اور اپنے عمل کو ریاکاری میں مبتلاء ہوئے بغیر مکمل بھی کر لیتے ہیں لیکن جب لوگوں کو ان کی عبادت کا پتا چلتا ہے انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے اور انہیں عبادت کی مشقتیں بھول جاتی ہیں ۔ اس صورت میں ریا ان کے دل میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ خوشی ریائے خفی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر دل لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوتا تو وہ اپنی عبادت پر ان کے آگاہ ہونے پر خوش نہ ہوتا،اب اگر وہ اس خوشی کو دل ہی دل میں مذموم نہ جانے تو ریا کا یہ پوشیدہ سلسلہ مزید مضبوط ہوجاتا ہے اور پھر یہ شخص کوشش کرتا ہے کہ اشارۃًیا کنایۃً کسی بھی طرح سے لوگوں کو اس کی عبادت کا حال معلوم ہوجائے بلکہ بعض اوقات ایسی عادتیں اپنا لیتا ہے جس سے اس کی نیکیوں کا اظہار ہوسکے مثلاًکمزوری کے سبب آواز پست رکھنا، ہونٹوں کو خشک رکھنا روزے اور آنسوؤں کے آثار خوفِ خدا سے گریہ وزاری اور انگڑائیوں اور جمائیوں سے نیند کے غلبے کا اظہار طویل تہجد گزاری پر دلالت کرتا ہے۔
(3) وہ ریا ہے کہ نہ تو لوگوں کے آگاہ ہونے کی خواہش ہو اور نہ ہی عبادت کے ظاہر ہونے پر خوشی ہو، البتہ اس بات پر خوشی ہو کہ٭ ملاقات کے وقت لوگ اسے پہلے سلام کریں٭اُسے خندہ پیشانی اور عزت واحترام سے ملیں ٭