اُبھار کر بھی وہ ریا کاری میں مُبتَلاکردے ، مثلاً دل میں وَسوَسہ ڈالے کہ لوگوں سے کہہ دے ،''میں تو صِرْف تَحدِیثِ نعمت کیلئے اپنا عمل بتا رہا ہوں۔''حالانکہ دل میں لڈّو پھوٹ رہے ہوں گے کہ اس طرح بتانے سے لوگوں کے دلوں میں میری عزّت بڑھ جائے گی ۔یہ یقینا ریا کاری ہے اور ساتھ میں تَحدیثِ نعمت کا کہنا ریا کاری در ریاکاری اور ساتھ ہی جھوٹ کے گناہ کی تباہ کاری بھی ہے۔تفصِیلی معلومات کیلئے حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کی کُتُبِ تصوُّف اِحیاءُ العُلُوم یا کیمیائے سعادت سے نیّت،اِخلاص اور رِیاکے ابواب کا مُطالَعَہ کیجئے۔ کاش!انہیں پڑھنے سے شیطان محروم نہ کرے،کیونکہ یہ مردود کبھی نہ چاہے گا کہ مسلمان کا عمل خالص ہو کر مقبول ہو جائے۔