اس میں بھی اخلاص اورریا کاری دونوں کااحتمال ہوتا ہے ۔اس کابھی یہی حکم ہے کہ مقتدٰی (یعنی جس شخص کی لوگ پیروی کرتے ہوں)کے لئے افضل یہ ہے لوگوں سے بیان کردے اوراگرلوگوں سے اپنی قصیدہ خوانی کروانامقصودہوتویہ گناہ ہے ۔ہاں! اگر اس طرح عبادت کے اظہارمیں ریا کاری راہ پاجائے تو یہ گناہ ہے مگراس سے گذشتہ عبادت ضائع نہیں ہوتی کیونکہ یہ عبادت جب اداکی گئی تھی اس وقت صحیح طورپراداہوئی تھی اوریہ کہ لوگوں کواپنی عبادت کے قصے سنانایہ گذشتہ عبادت کے بعدپیداہونے والا ایک نیاکام ہے جس سے بندہ فقط گناہ گارہوتاہے گذشتہ عبادت ضائع نہیں ہوتی۔ بہرحال وہ عبادات جن کوظاہرکرنے میں انسان مجبورنہیں ہوتا،ان میں افضل یہ ہے کہ ان کوچھپائے کہ اس میں بہت سی خرابیوں سے بچت ہے ،پھر اگرکسی کوسِکھانے کاارادہ ہے یایہ کہ اس شخص کی پیروی کی جاتی ہے تواب چھپانے سے ظاہرکردیناافضل ہے ۔