Brailvi Books

رِیاکاری
67 - 167
اس میں بھی اخلاص اورریا کاری دونوں کااحتمال ہوتا ہے ۔اس کابھی یہی حکم ہے کہ مقتدٰی (یعنی جس شخص کی لوگ پیروی کرتے ہوں)کے لئے افضل یہ ہے لوگوں سے بیان کردے اوراگرلوگوں سے اپنی قصیدہ خوانی کروانامقصودہوتویہ گناہ ہے ۔ہاں! اگر اس طرح عبادت کے اظہارمیں ریا کاری راہ پاجائے تو یہ گناہ ہے مگراس سے گذشتہ عبادت ضائع نہیں ہوتی کیونکہ یہ عبادت جب اداکی گئی تھی اس وقت صحیح طورپراداہوئی تھی اوریہ کہ لوگوں کواپنی عبادت کے قصے سنانایہ گذشتہ عبادت کے بعدپیداہونے والا ایک نیاکام ہے جس سے بندہ فقط گناہ گارہوتاہے گذشتہ عبادت ضائع نہیں ہوتی۔ بہرحال وہ عبادات جن کوظاہرکرنے میں انسان مجبورنہیں ہوتا،ان میں افضل یہ ہے کہ ان کوچھپائے کہ اس میں بہت سی خرابیوں سے بچت ہے ،پھر اگرکسی کوسِکھانے کاارادہ ہے یایہ کہ اس شخص کی پیروی کی جاتی ہے تواب چھپانے سے ظاہرکردیناافضل ہے ۔
 (الحدیقۃا لندیۃ ،ج۱،ص۴۷۴)
101بار دل پر غور کر لیجئے
    شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ ہمیں سمجھاتے ہوئے ''فیضانِ سنت'' جلداوّل،صفحہ1453پر لکھتے ہیں :'' تَحدیث ِنعمت (یعنی نعمت کا چرچا کرنے )کی نیّت سے نیک عمل کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔اِسی طرح کوئی پیشوا ہے اور وہ اپنا عمل اِس نیّت سے ظاہِر کر تا ہے کہ ماتَحت اَفراد کو اس سے عمل کی رغبت ملے گی تو اب رِیاکاری نہیں،مگر ہر ایک کو اپنا عمل ظاہِر کرتے وَقت ایک سو ایک بار اپنے دل کی کیفیت پر غور کر لینا چاہے، کیونکہ شیطٰن بڑامکّار ہے ،ہوسکتا ہے کہ اس طرح سے
Flag Counter