Brailvi Books

رِیاکاری
65 - 167
نیکیاں چھپائيے
     ہر اسلامی بھائی کو چاہے کہ اپنے منہ میاں مٹھو بن کر نفس وشیطان کے جال میں پھنسنے سے بچے کیونکہ نفس بڑا دھوکے باز ہے، شیطان بھی تاک میں رہتا ہے اور جاہ ومرتبہ کی خواہش دل پر غالب رہتی ہے او رظاہر ی اعمال آفات سے بہت کم محفوظ رہتے ہیں اور عمل کی سلامتی اِسے پوشیدہ رکھنے میں ہے۔ جب اس کے اظہار میں ایسے خطرات ہیں جن سے مقابلے کی قوت ہم جیسوں کو حاصل نہیں ہے تو ہم جیسے کمزور لوگو ں کے لیے اظہار سے بچنا ہی زیادہ بہتر ہے ۔لہٰذاکسی پر اپنی نیکیوں کا اظہار کرنے سے پہلے اپنے دل پر خوب غور کر لیجئے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم شیطان کے جال میں پھنس کر ریاکاری کا وبال اپنے سر پر لے لیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ریاکاری سے بچنا عمل کرنے سے زیادہ مشکل ہے
    حضرت سیدناابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلی اللہ تعالیٰ عليہ و اٰلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :''بے شک عمل کر کے اسے ریا کاری سے بچاناعمل کرنے سے زیادہ مشکل ہے اور آدمی عمل کرتا ہے تواس کے لئے ایسا نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے جو تنہائی ميں کيا گيا ہوتا ہے اور اس کے لئے ستر گنا ثواب بڑھا ديا جاتا ہے۔ پھر شيطان اس کے ساتھ لگارہتاہے(اور اُکسا تا رہتا ہے ) يہاں تک کہ وہ آدمی اس عمل کا ذکر لوگوں کے
Flag Counter