| رِیاکاری |
ڈوبنے کی تکلیف ایک ساعت کے لیے ہوتی ہے مگر ریاکاری کا عذاب تو دائمی ہے اور طویل مدت تک رہے گا ۔کمزور تو ایک طرف رہے یہ تو ایسا دشوار گزار مرحلہ ہے کہ علماء اور عبادت گزار لوگو ں کے قدم بھی پھسل سکتے ہیں کہ وہ عمل کے اظہار میں مضبوط لوگوں کی مشابہت تواختیار کریں لیکن ان کے دل اخلاص پر مضبوط نہ ہوں لہٰذا ریا کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔
نفس وشیطان کے دھوکے کو پہچاننے کا طریقہ
نفس وشیطان کے دھوکے کو اس طرح بھی پہچانا جاسکتا ہے کہ بطورِ ترغیب اپنا نیک عمل ظاہر کرنے سے پہلے اپنے دل سے سوال کیجئے کہ'' اگر تجھے کہا جائے کہ اپنے عمل کو پوشیدہ رکھو تاکہ لوگ کسی دوسرے کے عمل کی پیروی کریں جو تیرا ہم عصر ہے اور تجھے عمل کے پوشیدہ رکھنے کا ثواب اسی قدر ملے گا جس قدر ظاہر کرنے سے ہوتا ہے۔'' اب اگر اس کا دل اس بات کی طر ف مائل ہوکہ اسی کی پیروی کی جائے اور وہی عمل کو ظاہر کرے تواُسے سمجھ جانا چاہيے کہ اظہارِ عمل کا مقصود ریاکاری ہے طلبِ ثواب نہیں ،نہ لوگو ں کو اپنے پیچھے لانا ہے اور نہ ہی ان کو بھلائی کی ترغیب دینا ہے کیونکہ لوگ تو دوسرے شخص کو دیکھ کر بھی رغبت حاصل کرلیتے اور اسے عمل کو پوشیدہ رکھنے کا زیادہ ثواب مل جاتا! اگر لوگو ں کو دکھانا مقصود نہیں ہے تو اس کا دل عمل پوشیدہ رکھنے پر کیوں نہیں مانتا؟
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الجاہ والریاء،بیان الرخصۃ فی قصد۔۔۔۔۔۔الخ،ج۳،۳۹۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد