اس کا گمان ہو،کیونکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی اقتدااُن کے گھر والے کرتے ہیں مگر پڑوسی نہیں کرتے، کئی ایسے ہیں کہ ان کے پڑوسی ان کی پیروی کرتے ہیں بازار والے نہیں ، کئی ایسے ہیں کہ ان کے محلہ دار ان کی اقتدا کرتے ہیں ۔اس لئے جہاں پر اس کی پیروی کی جاتی ہو وہیں اظہار مناسب ہے ۔ لیکن مشہور عالم کی اقتدا سب لوگ کرتے ہیں۔ لہذا جب غیر عالم بعض عبادات کو ظاہر کریگا تو ہوسکتا ہے اسے ریا اور نفاق کی طرف منسوب کیا جائے ا ور لوگ اس کی پیروی کرنے کے بجائے اس کی برائی بیان کریں تو اظہارِ عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔الغرض اظہار کے لئے پیروی کی نیت ہونا ضروری ہے اور یہ نیت اُسی شخص کو کرنی چاہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے اور وہ ان لوگوں کے درمیان ہوجو اس کی پیروی کریں ۔ دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے دل کا خیال رکھے کیونکہ بعض اوقات اس میں پوشیدہ ریا موجود ہوتا ہے جو اُسے عمل کے اظہار پر مجبور کرتا ہے اقتداتو محض ایک بہانہ ہوتا ہے۔