Brailvi Books

رِیاکاری
61 - 167
    بہار شریعت حصہ16صفحہ 239پر ہے :''کسی عبادت کو اخلاص کے ساتھ شروع کیا مگر اَثْنَاء عمل میں(یعنی دورانِ عمل) ریا کی مداخلت ہوگئی تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ ریا سے عبادت کی بلکہ یہ عبادت اخلاص سے ہوئی، ہاں اس کے بعد جو کچھ عبادت میں حسن و خوبی پیدا ہوگئی وہ ریا سے ہوگی ۔''
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اپنی نیکیوں کا اظہار کرنا کیسا؟
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر کوئی عبادت اخلاص کے ساتھ مکمل ہوجائے یعنی اس کے اوّل تاآخر میں ریاکاری نہ پائی جائے لیکن بعد میں کوئی اس کا لوگوں پر اظہار کرے تواس کی2 صورتیں ہیں :پہلی :اس لئے عبادت کوظاہرکرتاہے کہ یہ لوگوں کاپیشوا ہے اور اس کے عمل سے انہیں نیکیوں کی ترغیب ملے گی تواس کواپنی نیکیاں لوگوں پر ظاہر کرنا جائز وافضل ہے ۔ مثلاًفقیہ ،محدث ،مرشد ،واعظ، استاذ یاایساکوئی بھی شخص ہے کہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہوں۔ حضرت سیدناابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہے کہ سرکارمدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے :'' خفیہ عبادت عَلَانیہ عبادت سے افضل ہے اور مقتدیٰ بہ(یعنی جس کی لوگ پیروی کرتے ہیں) کی علانیہ (عبادت )خفیہ (عبادت) سے افضل ہے ۔
 (شعب الایمان ۴۶،باب فی السرور بالحسنۃ والاغتمام بالسیئہ ، الحدیث ۷۰۱۲، ج۵، ص۷۶ ۳)
    حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان لکھتے ہیں :اپنی
Flag Counter